ڈاکٹر رؤف پاریکھ۲۶؍اگست ۱۹۵۸ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ اُردو فرہنگ نویس، ماہر لسانیات، مزاح نگار اور کالم نگار ہیں۔ پاریکھ صاحب نے کراچی میں تعلیم حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے اُردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اُنھوں نے۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۷ء تک اُردو ڈکشنری بورڈ کراچی کے لیے بطور مدیرِ اعلا کام کیا۔
انجمن ترقیِ اُردو پاکستان کے تحقیقی جریدے اْردو کے مدیر رہے ہیں۔ مختلف موضوعات پر اُن کی تقریباً۳۵ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جامعہ کراچی کے شعبۂ اُردو میں ایک عرصے تک تدریسی فرائض بھی سر انجام دیے۔ سال ۲۰۱۸ء میں یومِ پاکستان کے موقع پر حکومتِ پاکستان نے اُن کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ’’ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی‘‘ پیش کیا۔
روزنامہ ڈان میں ہفتہ وار ادبی کالم لکھتے ہیں۔
تحقیقی مقالہ جات، مزاحیہ مضامین اور تنقیدی تحریروں کے علاوہ بچوں کے لیے آپ نے بہت سی کہانیاں تحریر کیں۔جن میں ہاتھی کی سائیکل، مفت مشورہ، بیگم شیر کی توبہ، درختوں سے پیار کرو، الٰہ دین کا چراغ اور ہم، ہمارے پڑوسی، نازک صاحب کا بکرا، ہرنوٹے نے کہانی لکھی، ایک اوور میں چھے چھکے، قلمی دوستیاور چلتے ہو تو مری کو چلیے شامل ہے۔ آپ نے بچوں کے لیے انگریزی سے اُردو میں بھی کہانیاں ترجمہ کیں۔ دس لاکھ کا نوٹ، پچاس لاکھ کا نوٹ، ہیرے والا شتر مرغ اور پہاڑی کے بھوت کے نام سے یہ تراجم مختلف رسائل کے علاوہ ان کی کتاب ہیرے والا شتر مرغ میں بھی شامل ہیں۔
معیاری ادبِ اطفال کے فروغ کے لیے بنائی جانے والی ویب سائٹ چراغ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ہمارے پیشِ نظر پاکستان میں ادبِ اطفال کی تاریخ، تحقیق اور تنقید کو فروغ دے کر نئے رجحانات اور معیارات کی تشکیل ہے۔تاکہ ملکِ عزیز میں ادبِ اطفال روز افزوں ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔مزید براں ادبِ اطفال سے وابستہ مصنّفین اور محققین کے بنیادی کوائف اور منتخب تحریریں اس ویب سائٹ پر ملاحظہ کی جاسکیں گی۔
Chragh ©2023 All rights reserved